کردار کی پہچان

06 May, 2026 224 Views Download
SHARE ON:

کردار کی پہچان

ہمارے محلے کے پرائمری اسکول میں ایک نہایت قابلِ احترام استاد، ماسٹر اکمل صاحب، طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ اگرچہ وہ مستقل طور پر ہمارے محلے کے رہائشی نہ تھے، لیکن اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ انہوں نے یہیں بچوں کی تعلیم و تربیت میں صرف کیا۔ اُس زمانے میں پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار نہ تھی، چنانچہ محلے کے بیشتر بچے انہی کے ہاتھوں تعلیم پا کر عملی زندگی میں کامیاب ہوئے۔

ماسٹر صاحب نہایت شفیق، ملنسار اور اعلیٰ اخلاق کے حامل انسان تھے۔ ہم نے برسوں انہیں کبھی سائیکل پر سوار اور کبھی پیدل اسکول آتے جاتے دیکھا۔ محلے کے لوگ ان کی عزت صرف اس لیے نہیں کرتے تھے کہ ان کے بچے ان کے شاگرد تھے، بلکہ ان کے بے مثال کردار اور خلوص کی وجہ سے بھی انہیں دل سے چاہتے تھے۔

انہوں نے اپنی ملازمت نہایت دیانت داری اور وقار کے ساتھ انجام دی اور ایک پوری نسل کو علم کے نور سے منور کیا۔ زندگی کے آخری برسوں میں بس اتنی سی تبدیلی آئی کہ سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل آ گئی اور انہوں نے محلے میں ہی ایک مختصر سا گھر بنا لیا۔

معمولی تنخواہ کے باوجود انہوں نے اپنے بچوں کو تعلیم دلوائی، سفید پوشی کے ساتھ زندگی گزاری اور خودداری کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

ایک دن اتفاقاً ان سے ملاقات ہوئی۔ حسبِ عادت بڑی محبت سے ملے۔ خیریت دریافت کرنے پر بتایا کہ بیٹی رخصت ہو چکی ہے، بیٹا ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہے اور اللہ نے اسے ایک پیارا سا بیٹا عطا کیا ہے جو چوتھی جماعت میں زیرِ تعلیم ہے۔

مگر پچھلے سال ایک آزمائش نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ بچے کی طبیعت ناساز ہوئی، ٹیسٹ کروائے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے۔ ماسٹر صاحب نے اپنی بساط سے بڑھ کر علاج کروایا۔ مالی مشکلات کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور علاج کے ساتھ ساتھ بچے کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

اسی دوران انہوں نے اپنے ایک سابق شاگرد جمیل کا ذکر کیا، جو آج ایک نجی اسکول کا پرنسپل ہے۔ جمیل کبھی نہایت غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا؛ اس کے والدین دو بھینسوں کے سہارے زندگی گزارا کرتے تھے۔ وہ کئی سال تک ماسٹر صاحب کے پاس بلا معاوضہ زیرِ تعلیم رہا۔ ماسٹر صاحب نے کبھی اس سے فیس کا تقاضا نہ کیا اور پوری محنت و خلوص سے اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد جمیل نے ایک نجی اسکول میں تدریس شروع کی اور پھر بتدریج اپنا اسکول قائم کر لیا، جو آج علاقے میں ایک معروف ادارہ بن چکا ہے۔

آج وہی جمیل، جسے ماسٹر صاحب نے اپنے بچوں کی طرح پڑھایا تھا، ان کے پوتے زیشان کے اسکول کا پرنسپل ہے۔

جب مالی تنگی کے باعث کئی ماہ کی فیس ادا نہ ہو سکی تو ماسٹر صاحب نے نہایت عاجزی سے جمیل سے درخواست کی کہ وہ کچھ رعایت کر دے۔ مگر جواب میں سختی، بے حسی اور انکار ملا۔ اس نے کہا کہ اسکول کے بھی اخراجات ہیں، اساتذہ کو تنخواہیں دینی ہوتی ہیں، اور اگر ہر کسی کی فیس معاف کر دی جائے تو نظام نہیں چل سکتا۔

منت سماجت کے باوجود جمیل اپنے فیصلے پر قائم رہا اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر بقایا فیس ادا نہ کی گئی تو بچے کو اسکول سے نکال دیا جائے گا۔

ماسٹر صاحب چند ہزار روپے کے لیے سرِراہ شرمندگی کا بوجھ اٹھائے واپس لوٹے۔

ماسٹر صاحب کی آپ بیتی سن کے مختلف سوالات میرے ذہن میں گردش کرتے رہے 

 

کیا تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام ہے؟

کیا کردار کی پہچان محض بڑے عہدے اور مقام سے ہوتی ہے؟

کیا مال و دولت کی اہمیت ایک معصوم بچے کے خوابوں سے بڑھ کر ہو سکتی ہے؟ کیا مال و دولت کی محبت ایک معصوم بچے کی چند سانسوں سے زیادہ قیمتی ہے ؟

 اگر تعلیم ہمیں انسانیت، ہمدردی اور اخلاق نہ سکھا سکے، تو پھر ایسی تعلیم کا حاصل کیا ہے؟

 

تحریر

شاہد وسیم 

Shahidws1@Gmail.com

 

 

Was this news helpful?

1 people liked this

Comments